Welcome to Great Pakistan - وطن کی مٹی عظیم ہے توعظیم تر ہم بنا رہے ھیں

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

Sign in to follow this  
sunrise

امجد اسلام امجد کی شاعری

Rate this topic

خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن

خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن
یوں ہے کہ تجھے بھول کہ دیکھیں گے کسی دن
بھٹکے ہوۓ پھرتے ہیں کئ لفظ جو دل میں
دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن
ہل جائں گے اک بار تو عرشوں کے در و بام
یہ خاک نشیں لوگ جو بولیں گے کسی دن
آپس کی کسی بات کا ملتا ہی نہیں وقت
ہر بار یہ کہتے ہیں کہ بیٹھیں گے کسی دن
اے جان تیری یاد کے بے نام پرندے
شاخوں پہ میرے درد کی اتاریں گے کسی دن
جاتی ہیں کسی جھیل کی گہرائ کہاں تک
آنکھوں میں تیری ڈوب کہ دیکھیں گے کسی دن
خوشبو سے بھری شام میں جگنو کے قلم سے
اک نظم تیرے واسطے لکھیں گے کسی دن
سویئں گے تیری آنکھ کی خلوت میں کسی رات
ساۓ میں تیری زلف کے جاگیں گے کسی دن
خوشبو کی طرح اصل صبا خاک نما سے
گلیوں سے تیرے شہر کی گزریں گے کسی دن
امجد ہے یہی اب کہ کفن باندھ کہ سر سے
اس شہر ستم میں جایئں گے کسی دن

Share this post


Link to post
Share on other sites

کرو، جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا
بس تمہیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
جِسے تُم وقت کہتے ہو
دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
یہ کوئی خواب ہے جیسے
نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے
کرو، جو بات کرنی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ھے کوئی نظر والا
وہ چاند کہ روشن تھا سینوں میں نگاھوں میں
لگتا ھے اداسی کا اک بڑھتا ھوا ہالہ
پوشاکِ تمنا کو
آزادی کے خلعت کو
افسوس کہ یاروں نے
الجھے ھوئے دھاگوں کا اک ڈھیر بنا ڈالا
وہ شور ھے لمحوں کا، وہ گھور اندھیرا ھے
تصویر نہیں بنتی، آواز نہیں آتی
کچھ زور نہیں چلتا، کچھ پیش نہیں جاتی
اظہار کو ڈستی ھے ہر روز نئی اُلجھن
احساس پہ لگتا ھے ہر شام نیا تالہ
ھے کوئی دلِ بینا، ھے کوئی نظر والا

امجد اسلام امجد

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

  • Posts

    • عید آئی تو خیال آیا ہمیں
      جانے کب بچھڑے ہوئے لوگ ملیں
      جی میں آتا ہے ابھی تم سے کہیں
      عید کا چاند مبارک ہو تمہیں
      ہم ہیں خاموش ہمیں ڈر ہے یہی
      لب کھُلیں گے تو پُکاریں گے تمہیں
      تم کو دیکھے ہوئے صدیاں بیتیں
      تم سے کہنا ہے یہی آج ہمیں
      مانگنا بھول نہ جانا ہم کو
      چاند کو دیکھ کے گر ہاتھ اُٹھیں؟
    • عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی
      اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
      کانپ اُٹھتی ہوں مَیں یہ سوچ کے تنہائی میں
      میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
      جس طرح خواب مرے ہوگئے ریزہ ریزہ
      اِس طرح سے نہ کبھی ٹُوٹ کے بکھرے کوئی
      میں تو اُس دِن سے ہراساں ہوں کہ جب حُکم ملے
      خشک پُھولوں کی کتابوں میں نہ رکھے کوئی
      اب تو اس راہ سے شخص گزرتا بھی نہیں
      اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
      کوئی آہٹ ،کوئی آواز ،کوئی چاپ نہیں
      دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں__آئے کوئی
    • Kisi Kee Aankh Sey Sapny Chura Ker Kuch Nahe Milta
      Mundairon Sey Chiraghon Ko Bujha Ker Kuchh Nahe Milta Hamari Soch Kee Perwaaz Ko Rokey Nahe Koi
      Naey Aflaq Pey Pahrey Betha Ker Kuchh Nahe Milta Koi aik Aadh Sapna Hu To Pher Acha Bhee Lagta Hey
      Hazaaro Khauwab Aankhon Main Saja Ker Kuchh Nahee Milta Sukon Unko Nahee Milta Kabhee Perdais Ja Ker Bhee
      Jinhain Apney Watan Sey Dil Laga Ker Kuchh Nahee Milta Usey Kahna Key Pulkon Par Na Tanke Khauwbon Kee Jhaler
      Samandar Key Kenary Ghar Bana Kar Kuchh Nahee Milta Ye Achha He Key Aapus Key Bharam Na Tutane Paien
      Kabhee Bhee Doston Ko Aazmaa Ker Kuchh Nahee Milta Na Janey Koun Si Jazbey Ke Yun Taskin Kerta Hun
      Bazahir To Tumharey Khat Jala Ker Kuchh Nahee Milta Faqat Tumse Hee Kerta hun Men Saari Raaz Ki Baten
      Her aik Ko Dastaan-e-Dil Suna Ker Kuchh Nahee Milta Amul Kee Sukhti Raag Main Zara Sa Khoon Shamil Ker
      Mere Hamdum Faqat Batain Bana Ker Kuchh Nahee Milta Usey Men Peyar Kerta Hun To Mujh Ko Chain Aata Hey
      Vo Kehta Hey Usey Mujh Ko Sata Ker Kuchh Nahee Milta Mujhy Akser Sitaron Sey Yahi Avaz Aati Hey
      Kisi Key Hijar Main Neendain Ganva Ker Kuchh Nahee Milta,, Jigar Ho Jaye Ga Chhalni Ye Aankhain Khoon Roen Gee
      Wasi Bey-Faiz Logon Sey Nebha Ker Kuchh Nahee Milta,,
    • اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
      ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا تم جہاں میرے لئے سیپیاں چنتی ہوگی
      وہ کسی اور ہی دنیا کا کنارہ ہوگا زندگی! اب کے مرا نام نہ شامل کرنا
      گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی
      کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہوگا یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے
      دل نے چپکے سے ترا نام پکارا ہوگا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے
      اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا یہ جو پانی میں چلا آیا سنہری سا غرور
      اس نے دریا میں کہیں پاؤں اُتارا ہوگا کون روتا ہے یہاں رات کے سناتوں میں
      میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہوگا مجھ کو معلوم ہے جونہی میں قدم رکھوں گا
      زندگی تیرا کوئی اور کنارہ ہوگا جو میری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصی
      اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہوگا کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو
      میرے مولا کا وصی جونہی اشارہ ہوگا
    • ھے کوئی نظر والا
      وہ چاند کہ روشن تھا سینوں میں نگاھوں میں
      لگتا ھے اداسی کا اک بڑھتا ھوا ہالہ
      پوشاکِ تمنا کو
      آزادی کے خلعت کو
      افسوس کہ یاروں نے
      الجھے ھوئے دھاگوں کا اک ڈھیر بنا ڈالا
      وہ شور ھے لمحوں کا، وہ گھور اندھیرا ھے
      تصویر نہیں بنتی، آواز نہیں آتی
      کچھ زور نہیں چلتا، کچھ پیش نہیں جاتی
      اظہار کو ڈستی ھے ہر روز نئی اُلجھن
      احساس پہ لگتا ھے ہر شام نیا تالہ
      ھے کوئی دلِ بینا، ھے کوئی نظر والا امجد اسلام امجد
    • کرو، جو بات کرنی ہے
      اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا
      بس تمہیں سننے کی خاطر
      گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
      تو ایسا ہو نہیں سکتا
      زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
      کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
      بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
      تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
      بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
      جِسے تُم وقت کہتے ہو
      دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
      یہ کوئی خواب ہے جیسے
      نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے
      کرو، جو بات کرنی ہے
    • خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن
      یوں ہے کہ تجھے بھول کہ دیکھیں گے کسی دن
      بھٹکے ہوۓ پھرتے ہیں کئ لفظ جو دل میں
      دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن
      ہل جائں گے اک بار تو عرشوں کے در و بام
      یہ خاک نشیں لوگ جو بولیں گے کسی دن
      آپس کی کسی بات کا ملتا ہی نہیں وقت
      ہر بار یہ کہتے ہیں کہ بیٹھیں گے کسی دن
      اے جان تیری یاد کے بے نام پرندے
      شاخوں پہ میرے درد کی اتاریں گے کسی دن
      جاتی ہیں کسی جھیل کی گہرائ کہاں تک
      آنکھوں میں تیری ڈوب کہ دیکھیں گے کسی دن
      خوشبو سے بھری شام میں جگنو کے قلم سے
      اک نظم تیرے واسطے لکھیں گے کسی دن
      سویئں گے تیری آنکھ کی خلوت میں کسی رات
      ساۓ میں تیری زلف کے جاگیں گے کسی دن
      خوشبو کی طرح اصل صبا خاک نما سے
      گلیوں سے تیرے شہر کی گزریں گے کسی دن
      امجد ہے یہی اب کہ کفن باندھ کہ سر سے
      اس شہر ستم میں جایئں گے کسی دن