Welcome to Great Pakistan - وطن کی مٹی عظیم ہے توعظیم تر ہم بنا رہے ھیں

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

  • Announcements

ali

Members
  • Content count

    23
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

ali last won the day on August 14

ali had the most liked content!

Community Reputation

2 Neutral

About ali

  • Rank
    Member

Converted

  • Education Level
    BCom
  1. Eid Poetry - عید کے اشعار

    عید آئی تو خیال آیا ہمیںجانے کب بچھڑے ہوئے لوگ ملیںجی میں آتا ہے ابھی تم سے کہیںعید کا چاند مبارک ہو تمہیںہم ہیں خاموش ہمیں ڈر ہے یہیلب کھُلیں گے تو پُکاریں گے تمہیںتم کو دیکھے ہوئے صدیاں بیتیںتم سے کہنا ہے یہی آج ہمیںمانگنا بھول نہ جانا ہم کوچاند کو دیکھ کے گر ہاتھ اُٹھیں؟
  2. آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
  3. اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا
  4. وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا
  5. (اے پی پی) ہال آف فیم ٹینس چیمپئن شپ، پاکستانی ٹینس سٹار اعصام الحق قریشی نے مینز ڈبلز کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ فیصلہ کن معرکے میں اعصام الحق اور ان کے امریکی پارٹنر راجیو رام نے میٹ ریڈ اور جان پیٹرک سمتھ کو شکست سے دوچار کیا۔
  6. ایشین کیڈٹ ریسلنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کے عنایت اللہ نے سلور میڈل حاصل کر لیا، وہ تھائی لینڈ میں ہونے والے ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے واحد ریسلر تھے۔ 69 کلوگرام ویٹ کیٹگری کے فائنل میں عنایت اللہ کو قازقستانی حریف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس سے قبل انہوں نے تاجکستان، ایران اور منگولیا کے ریسلرز کے خلاف کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائنل میں رسائی حاصل کی تھی۔ عنایت اللہ کی شاندار کارکردگی کے باعث پاکستان ایونٹ میں 28 سال بعد سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ نیشنل کوچ غلام حیدر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ ایشیائی ایونٹ سے قبل عنایت اللہ نے بھرپور ٹریننگ کی تھی اور روانگی سے قبل گفتگو میں انہوں نے پاکستان کیلیے میڈل کا حصول اپنا مقصد قرار دیا تھا۔ پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے کامیابی پر ریسلر کو مبارکباد دی ہے۔
  7. صبحِ نَو

    صبحِ نَو اے دوست ! ہو نوید کہ پت جھڑ کی رت گئی چٹکی ہے میرے باغ میں پہلی نئی کلی پھر جاگ اٹھی ہیں راگنیاں آبشار کی پھر جھومتی ہیں تازگیاں سبزہ زار کی پھر بس رہا ہے اک نیا عالم خمار کا پھر آ رہا ہے لوٹ کے موسم بہار کا اے دوست ! اس سے بڑھ کے نہیں کچھ بھی میرے پاس یہ پہلا پھول بھیج رہا ہوں میں تیرے پاس کومل سا ، مسکراتا ہوا ، مشک بار پھول پروردگارِ عشق کا یہ بے زباں رسول آتا ہے اک پیام رسانی کے واسطے بسرے دنوں کی یاد دہانی کے واسطے اے دوست ایک پھول کی نکہت ہے زندگی اے دوست ایک سانس کی مہلت ہے زندگی وہ دیکھ پَو پھٹی ، کٹی رات اضطراب کی اچھلی خطِ افق سے صراحی شراب کی آ آ یہ صبح نَو ہے غنیمت ، مرے حبیب ! آیا ہے پھر بہار کا موسم ! زہے نصیب !
  8. ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے رنگ و خوشبو کے، حسن و خوبی کے تم سے تھے جتنے استعارے تھے تیرے قول و قرار سے پہلے اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے جب وہ لعل و گہر حساب کیے جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے میرے دامن میں آگرے سارے جتنے طشتِ فلک میں تارے تھے عمرِ جاوید کی دعا کرتے فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے
  9. میری طرف سے سب کو عیدالفطر مبارک
  10. Lyrics in Roman Urdu Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Ye Chaman Tumhara Hai Tum Ho Naghma Khwaan Is Ke Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Is Chaman Ke Phoulon Par Rang o Aab Tum Say Hay Is Zameen Ka Her Zarra Aftaab Tum Say Hay Ye Fazaa Tumhaari Hay, Bahr o Barr Tumharay Hain Kehkashaan Kay Yeh Ujaalay Rah Guzar Tumharay Hain Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Is Zameen Ki Matti Mein Khoon Hay Shaheedon Ka Arz e Pak Markaz Hay Qoum Ki Ummidon Ka Nazm o Zabt Ko Apna Mir e Karwaan Jano Waqt Kay Andheron Mein Apna Aap Pehchaano Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Ye Zameen Muqaddas Hay, Maan Kay Piyar Ki Soorat Is Chaman Mein Tum Sab Ho Barg o Baar Ki Soorat Daikhna Gawana Mat, Daulat e Yaqin Logo Yeh Watan Amaanat Hay Or Tum Ameen Logo Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Mir e Karwaan Hum Thay, Rooh e Karwaan Tum Ho Hum To Sirf Unwaan Thay, Asl Daastan Tum Ho Nafraton Kay Darwaazay Khud Pe Band Hi Rakhna Is Watan Kay Parcham Ko SAR BULAND HI RAKHNA Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Ye Chaman Tumhara Hai Tum Ho Naghma Khwaan Is Ke Ye Watan Tumhara Hai Tum Ho Pasban Is Ke Ye Watan Hamara Hai Hum Hain Pasban Is Kay Ye Watan Hamara Hai Hum Hain Pasban Is Kay