Welcome to Great Pakistan - وطن کی مٹی عظیم ہے توعظیم تر ہم بنا رہے ھیں

Register now to gain access to all of our features. Once registered and logged in, you will be able to contribute to this site by submitting your own content or replying to existing content. You'll be able to customize your profile, receive reputation points as a reward for submitting content, while also communicating with other members via your own private inbox, plus much more!

This message will be removed once you have signed in.

  • Announcements

All Activity

This stream auto-updates   

  1. Last week
  2. Earlier
  3. Eid Poetry - عید کے اشعار

    عید آئی تو خیال آیا ہمیںجانے کب بچھڑے ہوئے لوگ ملیںجی میں آتا ہے ابھی تم سے کہیںعید کا چاند مبارک ہو تمہیںہم ہیں خاموش ہمیں ڈر ہے یہیلب کھُلیں گے تو پُکاریں گے تمہیںتم کو دیکھے ہوئے صدیاں بیتیںتم سے کہنا ہے یہی آج ہمیںمانگنا بھول نہ جانا ہم کوچاند کو دیکھ کے گر ہاتھ اُٹھیں؟
  4. عکسِ خوشبو ہوں،بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بِکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی کانپ اُٹھتی ہوں مَیں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی جس طرح خواب مرے ہوگئے ریزہ ریزہ اِس طرح سے نہ کبھی ٹُوٹ کے بکھرے کوئی میں تو اُس دِن سے ہراساں ہوں کہ جب حُکم ملے خشک پُھولوں کی کتابوں میں نہ رکھے کوئی اب تو اس راہ سے شخص گزرتا بھی نہیں اب کس اُمید پہ دروازے سے جھانکے کوئی کوئی آہٹ ،کوئی آواز ،کوئی چاپ نہیں دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں__آئے کوئی
  5. Kisi Kee Aankh Sey Sapny Chura Ker Kuch Nahe Milta Mundairon Sey Chiraghon Ko Bujha Ker Kuchh Nahe Milta Hamari Soch Kee Perwaaz Ko Rokey Nahe Koi Naey Aflaq Pey Pahrey Betha Ker Kuchh Nahe Milta Koi aik Aadh Sapna Hu To Pher Acha Bhee Lagta Hey Hazaaro Khauwab Aankhon Main Saja Ker Kuchh Nahee Milta Sukon Unko Nahee Milta Kabhee Perdais Ja Ker Bhee Jinhain Apney Watan Sey Dil Laga Ker Kuchh Nahee Milta Usey Kahna Key Pulkon Par Na Tanke Khauwbon Kee Jhaler Samandar Key Kenary Ghar Bana Kar Kuchh Nahee Milta Ye Achha He Key Aapus Key Bharam Na Tutane Paien Kabhee Bhee Doston Ko Aazmaa Ker Kuchh Nahee Milta Na Janey Koun Si Jazbey Ke Yun Taskin Kerta Hun Bazahir To Tumharey Khat Jala Ker Kuchh Nahee Milta Faqat Tumse Hee Kerta hun Men Saari Raaz Ki Baten Her aik Ko Dastaan-e-Dil Suna Ker Kuchh Nahee Milta Amul Kee Sukhti Raag Main Zara Sa Khoon Shamil Ker Mere Hamdum Faqat Batain Bana Ker Kuchh Nahee Milta Usey Men Peyar Kerta Hun To Mujh Ko Chain Aata Hey Vo Kehta Hey Usey Mujh Ko Sata Ker Kuchh Nahee Milta Mujhy Akser Sitaron Sey Yahi Avaz Aati Hey Kisi Key Hijar Main Neendain Ganva Ker Kuchh Nahee Milta,, Jigar Ho Jaye Ga Chhalni Ye Aankhain Khoon Roen Gee Wasi Bey-Faiz Logon Sey Nebha Ker Kuchh Nahee Milta,,
  6. اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہوگا تم جہاں میرے لئے سیپیاں چنتی ہوگی وہ کسی اور ہی دنیا کا کنارہ ہوگا زندگی! اب کے مرا نام نہ شامل کرنا گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہوگا جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہوگا یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے دل نے چپکے سے ترا نام پکارا ہوگا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہوگا یہ جو پانی میں چلا آیا سنہری سا غرور اس نے دریا میں کہیں پاؤں اُتارا ہوگا کون روتا ہے یہاں رات کے سناتوں میں میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہوگا مجھ کو معلوم ہے جونہی میں قدم رکھوں گا زندگی تیرا کوئی اور کنارہ ہوگا جو میری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصی اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہوگا کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو میرے مولا کا وصی جونہی اشارہ ہوگا
  7. ھے کوئی نظر والا وہ چاند کہ روشن تھا سینوں میں نگاھوں میں لگتا ھے اداسی کا اک بڑھتا ھوا ہالہ پوشاکِ تمنا کو آزادی کے خلعت کو افسوس کہ یاروں نے الجھے ھوئے دھاگوں کا اک ڈھیر بنا ڈالا وہ شور ھے لمحوں کا، وہ گھور اندھیرا ھے تصویر نہیں بنتی، آواز نہیں آتی کچھ زور نہیں چلتا، کچھ پیش نہیں جاتی اظہار کو ڈستی ھے ہر روز نئی اُلجھن احساس پہ لگتا ھے ہر شام نیا تالہ ھے کوئی دلِ بینا، ھے کوئی نظر والا امجد اسلام امجد
  8. کرو، جو بات کرنی ہےاگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیابس تمہیں سننے کی خاطرگوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گیتو ایسا ہو نہیں سکتازمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پرکسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتابٹھاؤ لاکھ تُم پہرےتماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقتبِنا دیکھے، بِنا ٹھہرےجِسے تُم وقت کہتے ہودھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہےیہ کوئی خواب ہے جیسےنہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہےکرو، جو بات کرنی ہے
  9. خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دن خود اپنے لیۓ بیٹھ کہ سوچیں گے کسی دنیوں ہے کہ تجھے بھول کہ دیکھیں گے کسی دنبھٹکے ہوۓ پھرتے ہیں کئ لفظ جو دل میںدنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دنہل جائں گے اک بار تو عرشوں کے در و بامیہ خاک نشیں لوگ جو بولیں گے کسی دنآپس کی کسی بات کا ملتا ہی نہیں وقتہر بار یہ کہتے ہیں کہ بیٹھیں گے کسی دناے جان تیری یاد کے بے نام پرندےشاخوں پہ میرے درد کی اتاریں گے کسی دنجاتی ہیں کسی جھیل کی گہرائ کہاں تکآنکھوں میں تیری ڈوب کہ دیکھیں گے کسی دنخوشبو سے بھری شام میں جگنو کے قلم سےاک نظم تیرے واسطے لکھیں گے کسی دنسویئں گے تیری آنکھ کی خلوت میں کسی راتساۓ میں تیری زلف کے جاگیں گے کسی دنخوشبو کی طرح اصل صبا خاک نما سےگلیوں سے تیرے شہر کی گزریں گے کسی دنامجد ہے یہی اب کہ کفن باندھ کہ سر سےاس شہر ستم میں جایئں گے کسی دن
  10. Eid Poetry - عید کے اشعار

    وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے
  11. خوشیوں کی شام اور یادوں کا یہ سماں اپنی پلکوں پہ ہرگز ستارے نہ لائیں گے رکھنا سنبھال کر چند خوشیاں میرے لئے میں لوٹ آؤں گا تو عید منائیں گے
  12. Eid ul Adha - عید الاضحیٰ

    until
  13. دل دل پاکستان

    Aisi Zameen Aur Aasman , In Ke Siwaa Jana Kahan Barhti Rahay Ye Roshni, Chalta Rahay Ye Karwaan Dil Dil Pakistan Jan Jan Pakistan Dil Dil Pakistan Jan Jan Pakistan Dil Dil Say Milte Hain Tou Pyar Ka Chehra Banta Hai, Chehra Banta Hai Phool Ek Lari Mein Piroyen Tou Phir Sehra Banta Hai, Chehra Banta Hai Dil Dil Pakistan Jan Jan Pakistan Dil Dil Pakistan Jan Jan Pakistan Ghar Apna Tou Sab Ko Ji Jaan Se Piyara Lagta Hai, Tara Lagta Hai Hum Ko Bhi Apnay Har Armaan Se Piyara Lagta Hai, Tara Lagta Hai Dil Dil Pakistan Jan Jan Pakistan Dil Dil Pakistan Jan Jan Pakistan
  14. پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ ۔ اصغر سودائی روزانہ ایک قومی نظم لکھ کر لاتے اور جلسے میں موجود افراد کو سناتے تھے۔ ایک دن وہ ایک ایسی نظم لکھ کر لائے، جس کے ایک مصرعہ نے گویا مسلمانوں کے دلوں کے تار کو چھو لیا۔ ۔ آپ سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ یہ مصرع کیسے آپ کے ذہن میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ:” جب لوگ پوچھتے تھے کہ، مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن پاکستان کا مطلب کیا ہے ؟؟؟“تو میرے ذہن میں آیا کہ سب کو بتانا چاہیئے کہ:”پاکستان کا مطلب کیا ہے؟؟؟“ یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے اور اسی لیے قائد اعظم نے کہا تھا کہ: ”تحریکِ پاکستان میں پچیس فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔“ پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ شب ظلمت میں گزاری ہے اٹھ وقت بیداری ہے جنگ شجاعت جاری ہے آتش و آہن سے لڑ جا پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ ہادی و رہبر سرورِ دِیں صاحب علم و عزم و یقیں قرآن کی مانند حسیں احمد مرسل صلی علی پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ چھوڑ تعلق داری چھوڑ اٹھ محمود بتوں کو توڑ جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ غیر اللہ کا نام مٹا پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ جرات کی تصویر ہے تو ہمت عالمگیر ہے تو دنیا کی تقدیر ہے تو آپ اپنی تقدیر بنا پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ نغموں کا اعجاز یہی دل کا سوز و ساز یہی وقت کی ہے آواز یہی وقت کی یہ آواز سنا پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ پنجابی ہو یا افغان مل جانا شرط ایمان ایک ہی جسم ہے ایک ہی جان ایک رسول اور ایک خدا پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ تجھ میں ہے خالد کا لہو تجھ میں ہے طارق کی نمو شیر کے بیٹے شیر ہے تو شیر بن اور میدان میں آ پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ مذہب ہو تہذیب کہ فن تیرا جداگانہ ہے چلن اپنا وطن ہے اپنا وطن غیر کی باتوں میں مت آ پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ اے اصغر اللہ کرے ننھی کلی پروان چڑھے پھول بنے خوشبو مہکے وقت دعا ہے ہاتھ اٹھا پاکستان کا مطلب کیا؟ ــــــــــ لا الہ الا اللہ
  15. آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
  16. اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا
  17. وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہل قفس تو اور طرح کا اعلان جبر آ جاتا وہ فاصلہ تھا دعا اور مستجابی میں کہ دھوپ مانگنے جاتے تو ابر آ جاتا وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا وزیر و شاہ بھی خس خانوں سے نکل آتے اگر گمان میں انگار قبر آ جاتا
  1. Load more activity